نئی دہلی12؍نومبر(یو این آئی)حکومت نے کل بتایا کہ اے ٹی ایم مشینوں کو تکنیکی اعتبار سے درست کرنے میں دو یا تین ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے ۔ مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اے ٹی ایم مشینوں کو درست کرنے کا کام تیزی سے کیا جا رہا ہے لیکن تکنیکی نقطہ نظر سے ہر مشین کو الگ الگ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس لیے انہیں تبدیل کرنے میں وقت لگ رہا ہے ۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ ساری اے ٹی ایم مشینوں کو ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے ؟،انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں دو لاکھ سے زیادہ اے ٹی ایم مشین ہیں جنھیں ٹھیک کرنے کا کام جاری ہے ۔ جہاں تک ساری مشینوں کا سوال ہے تو انہیں پھر سے نئے نوٹ کے لئے چالو کرنے میں دو یا تین ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے ۔ لوگوں کو نقد رقم حاصل کرنے میں ہو نے والی پریشانیوں کے بارے میں مسٹر جیٹلی نے کہا کہ کچھ دنوں تک لوگوں کو پریشانی ہو سکتی ہے لیکن آگے چل کر سب کو اس کا فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے نوٹ تبدیل کرنے کا بینکنگ عمل تھوڑا طویل ہوگا۔ اس لیے جنہیں فوری طور پر نقد رقم چاہیے وہ اپنے اکاؤنٹ میں براہ راست جمع نقد نکال سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کہیں زیادہ آسان ہے ۔جیٹلی نے کہا کہ ملک کے بینکنگ نظام میں تقریباً 25 فیصد حصہ داری رکھنے والے اسٹیٹ بینک آف انڈیا(ایس بی آئی) میں 10 نومبر سے سنیچر دوپہر سوا بارہ بجے تک کل دو کروڑ 28 لاکھ کی لین دین میں کل 54،370 کروڑ روپے نکالے اور جمع کرائے گئے ہیں۔ ان میں سے 47،868 کروڑ روپے جمع کئے گئے ہیں۔اس طرح ملک کے تمام بینکوں میں تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے جمع ہونے کا اندازہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں 58 لاکھ لوگوں نے روپے بدلے جن میں سے 33 لاکھ لوگوں نے روپے نکالے ہیں۔ 22 لاکھ لوگوں نے اسٹیٹ بینک کا اے ٹی ایم استعمال کیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان نوٹوں کی گردش کو بند کرنے کے فیصلے سے بازار میں جاری86 فیصد نوٹ منسوخ ہو گئے ہیں جو تقریباً14 لاکھ کروڑ روپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے کاجلد ہی کچھ اثر ہو سکتا ہے ۔ جیٹلی نے لوگوں سے نہ گھبرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 30 دسمبر تک نوٹ جمع کرنے کی مدت ہے ۔ انہوں نے لوگوں کے لمبی لمبی لائنوں میں گھنٹوں انتظار کرکے پر امن طریقے سے نوٹ بدلوانے کے لئے شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اور بینکوں میں عام طور پر آنے والے گاہکوں کے مقابلے میں کئی سو گنا زیادہ گاہک آ رہے ہیں۔